Surveillance
Self-Defense

دوسروں کے ساتھ رابطہ کرنا

آخری تازہ کاری: 
12-7-2018
اس صفحے کا ترجمہ انگریزی زبان سے کیا گیا ہے، انگریزی ورژن میں شاید تجدید ہوچکی ہو۔

مواصلاتی نیٹ ورک اور انٹرنیٹ نے لوگوں سے رابطہ قائم کرنا پہلے سے زیادہ آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے ساتھ کڑی نگرانی کو بھی پہلے سے کہیں زیادہ حاوی کردیا ہے .آپ کی نجی نوعیت کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کے بغیر آپ کی ہر فون کال، ٹیکسٹ پیغام، ای میل، فوری پیغام، ویڈیو اور آڈیو بات چیت، اور سوشل میڈیا پیغام کو جاسوسی کے مقصد کیلئے ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔

اکثر کسی سے رابطہ کرنے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے کمپیوٹر یا فون کے استعمال کے بغیر آمنے سامنے بات کی جائے. لیکن چوں کہ ایسا کرناہر وقت ممکن نہیں ،اس لئے اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کا استعمال ہی سب سے بہتر ہے۔

 

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کیسے کام کرتی ہے؟ Anchor link

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ اصل ارسال کنندہ (پہلے ’’اینڈ ‘‘) کی جانب سے بھیجی جانے والی معلومات ایک خفیہ پیغام بن جائے اور جسے اپنے حقیقی وصول کنندہ (آخری ’’اینڈ‘‘) کی جانب سے ہی ڈی کوڈ یا خفیہ کشائی کرکے دیکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس پیغام کو وائی فائی کیفے والوں سمیت، آپ کے انٹرنیٹ سروس مہیا کار اور یہاں تک کہ آپ کے استعمال میں آنے والی ایپ یا ویب سائٹ بھی آپ کی سرگرمی کو جان نہ سکے اور نہ ہی اس میں مداخلت کر سکیں۔ محض آپ کے کمپیوٹر پر کسی ویب سائٹ سے معلومات یا آپ کے فون پر کسی ایپ میں پیغامات تک آپ کی رسائی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ایپ کمپنی یا ویب سائٹ پلیٹ فارم خود بھی انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اچھی اینکرپشن کی یہی خصوصیات ہیں کہ جو لوگ انہیں ڈیزائن کرتے یا مرتب کرتے ہیں وہ بھی ان کا توڑ نہیں کر سکتے ۔

شروع سے آخر تک خفیہ کاری میں تھوڈی محنت لگتی ہے ،لیکن یہ ایک واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ صارفین اپنی مواصلات کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں بغیر اس سہولت پر بھروسہ کئے جسکو وہ دونوں استعمال کر رہے ہیں.کچھ سہولت مہیا کار جیسا کہ Skype دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ شروع سے آخر تک خفیہ کاری کرتی ہیں جب کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اصل میں نہیں کرتے.محفوظ خفیہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ صارفین اس بات کی توثیق کرنے کے قابل ہوں کہ وہ جس کریپٹو کلید کے ذریعہ پیغام کی خفیہ کاری کر رہے ہیں وو اسی شخص کی ہے جس کی وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہے.مواصلات سافٹ ویئر میں اگر یہ صلاحیت پہلے سے موجود نہیں ہے تو، کوئی بھی خفیہ کاری جو وہ استعمال کر رہا ہے سہولّت مہیا کار کی طرف سے اس میں مداخلت ہوسکتی ہے، مثال کے طور پر حکومت مجبور کرتی ہے تو.

SSD سائٹ پر موجود تمام ٹولز جو اپنی گائیڈز رکھتے ہیں وہ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن استعمال کرتے ہیں۔ آپ وائس اور ویڈیو کال، پیغامات اور گفتگو اور ای میل سمیت ہر قسم کے رابطوں کیلئے اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

اس بات سے پریشان نہ ہوں کہ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن، ٹرانسپورٹ لیئر اینکرپشن ہے ۔ کیونکہ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن آپ سے شروع ہوکر آپ کے وصول کنندہ تک تمام راستے آپ کے پیغامات کی حفاظت کرتی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ لیئر اینکرپشن پیغامات کی حفاظت اس وقت کرتی ہے جب وہ آپ کی ڈیوائس سے ایپ سرور تک پہنچتے ہیں اور پھر ایپ سرور سے آپ کے وصول کنندہ کی ڈیوائس تک پہنچتے ہیں۔ اس دوران آپ کے پیغاماتی سروس مہیاکار ، یا جس ویب سائٹ پر آپ براؤزنگ کررہے ہیں، یا جس ایپ کا آپ استعمال کررہے ہیں وہ آپ کے پیغامات کی غیر مرموز نقول دیکھ سکتے ہیں۔

پردے میں رہتے ہوئے اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کچھ اس طرح کام کرتی ہے: جب دو لوگ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کے ذریعے رابطہ کرنا چاہیں (مثلاً Akiko اور Boris( تو ان دونوں کو ڈیٹا کے بعض مرکب بنانا پڑتے ہیں جنہیں keys کہا جاتا ہے۔ ان keys کا استعمال ڈیٹا کو ایسی ترتیب میں استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیٹا صرف اسی کی جانب سے دیکھا جاسکے جو اس جیسی ہی keys رکھتا ہو۔ اس سے پہلے کہ Akiko کوئی پیغام Boris کو بھیجے، وہ اسے Boris کیلئے اینکرپٹ کرتی ہے تاکہ صرف Boris ہی اسے ڈی کرپٹ کرسکے۔ پھر وہ اس اینکرپٹڈ یا مرموز پیغام کو انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجتی ہے۔ ان دونوں کے رابطوں کے درمیان اگر کوئی خلل ڈالنا چاہے، حتٰی کہ خلل ڈالنے والے کے پاس چاہے ان کی ای میلز تک رسائی بھی ہو تب بھی وہ صرف اینکرپٹڈ یا مرموز پیغام کی صورت ہی دیکھ پائے گا اور پیغام کو اصل حالت میں نہ ہی کھول پائے گا اور نہ ہی اسے پڑھ پائے گا۔ اور جب Boris اس پیغام کو موصول کرے گا تو اس پیغام کو پڑھنے کیلئے اپنی keys کا استعمال کرکے پہلے اسے ڈی کرپٹ یا غیر مرموز کرے گا اور تب پیغام کو اپنی اصل حالت میں پڑھ پائے گا۔

Google, Hangouts جیسی بعض خدمات ’’اینکرپشن ‘‘ کی تشہیر تو کرتی ہیں لیکن ان keys کا استعمال کرتی ہیں جنہیں Google کی جانب سے ہی مرتب بھی کیا جاتا ہے اور اسی کی دسترس ہوتی ہے نہ کہ پیغام کے ارسال کنندہ اور آخری وصول کنندہ کی۔ یہ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن نہیں ہوتی۔ صحیح معنوں میں وہی گفتگو محفوظ ہوتی ہے جس میں keys پہ دسترس صرف اینڈ صارف کی ہو اور جو keys اس آخری صارف کو ہی پیغام مرموز اور غیر مرموز کرنے دیں۔ اگر آپ کسی ایسی سروس کا استعمال کرتے ہیں جو خود ہی keys قابو رکھتی ہوں تو وہ ٹرانسپورٹ لیئر اینکرپشن کہلاتی ہے۔

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صارفین اپنی keys کو راز میں رکھیں۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن keys کا استعمال اینکرپٹ اور ڈی کرپٹ میں کیا جاتا ہے ان کا تعلق متعلقہ لوگوں سے ہی ہو۔اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کا استعمال چند ایسی کاوشوں کو بھی شامل کرسکتا ہے جو عام انتخاب سے لیکر کسی ایپ کے ڈاؤن لوڈ کرنے تک محیط ہو جو اسے خود ساختہ طور پر keys کی تصدیق کرنے دیں ، لیکن صارفین کیلئے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے رابطوں کی حفاظتی تصدیق کسی ایسے پلیٹ فارم پر بھروسہ کئے بغیر کریں جو پلیٹ فارم دونوں صارف استعمال کرتے ہوں۔

اینکرپشن کے بارے میں مزید جاننے کیلئے اینکرپشن سے متعلق مجھے کیا علم ہونا چاہئے؟, اینکرپشن میں Key Conceptsاوراینکرپشن کی مختلف اقسام دیکھئے۔ ہم ایک ایسے خاص قسم کی اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کے بارے میں بھی بتاتے چلیں جسے ’’پبلک key اینکرپشن‘‘ کہا جاتا ہے مزید معلومات کیلئے. اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن پر کسی Deep Diveمیں دیکھئے۔

فون کالوں یا ٹیکسٹ پیغامات کے مقابل اینکرپٹڈ انٹرنیٹ پیغامات Anchor link

جب آپ کسی لینڈ لائن یا کسی موبائل سے کال کرتے ہیں تو آپ کی وہ کال اینڈ ٹو اینڈ اینکرپٹڈ یا مرموز نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب آپ کسی فون سے کوئی ٹیکسٹ پیغام (جسے ایس ایم ایس کہتے ہیں) بھیجتے ہیں تو وہ بھی اینکرپٹڈ نہیں ہوتا۔ ان دونوں طرح کی خدمات میں حکومتیں یا اسی طرح کی قوتیں فون کمپنی پر اثر انداز ہوکر انہیں آپ کی کالیں یا پیغامات پر دسترس حاصل کرنے کا کہتی ہیں۔ اگر آپ کے تجزیاتی خدشے میں حکومتی مداخلت کا ہونا شامل ہو تو آپ انٹرنیٹ کے تحت چلنے والی خدمات پر متبادل کے طور پر اینکرپشن کے استعمال کو ترجیح دیں۔ مزید یہ کہ ایسے کئی اینکرپٹڈ متبادل موجود ہیں جو آپ کو ویڈیو کی صلاحیت بھی فراہم کرتے ہیں۔

سافٹ ویئر یا خدمات کی چند مثالیں جو اینڈ ٹو اینڈ اینکرپٹڈ پیغامات بھیجنے، آواز اور ویڈیو کالیں کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، ان میں شامل ہیں:

جن خدمات میں بائی ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن موجود نہیں، ان میں شامل ہیں:

  • Google Hangouts
  • Kakao Talk
  • Line
  • Snapchat
  • WeChat
  • QQ
  • Yahoo Messenger

اور بعض خدمات ایسی ہیں جنہیں چلاتے ساتھ ہی صرف اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن ہی پائی جاتی ہے جیسے، Facebook Messenger اور Telegram. iMessage جیسے دیگرصرف اسی وقت ہی اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کا اختیار دیتے ہیں جب دونوں اطراف کے صارفین کوئی خاص ڈیوائس یا ایک جیسی ڈیوائس استعمال کررہے ہوں (جیسے دونوں صارفین کو iPhone استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہو)۔

اپنی پیغاماتی خدمت یا Messaging Service پہ آپ کتنا اعتبار کر سکتے ہیں؟ Anchor link

حکومتوں، ہیکرز اور خود پیغاماتی خدمات کی جانب سے کڑی نگرانی کے خلاف اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن آپ کو تحفظ دے سکتی ہے۔ لیکن یہ تمام گروپس آپ کے زیرِ استعمال سافٹ ویئر میں خفیہ تبدیلیاں کرنے کے اہل بھی ہوسکتے ہیں چاہے وہ سروس اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کا دعوٰی ہی کیوں نہ کرتی ہو، وہ خدمت پھر حقیقی طور پر آپ کا ڈیٹا غیر مرموز یا کمزور اینکرپشن کے ساتھ بھیج رہی ہوتی ہے۔

بشمول EFF بہت سے گروپس اس کارروائی میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیاں کہ وہ نامور مہیا کاروں (جیسے Facebook کے زیرِ انتظام چلنے والی Whatsapp اور Signal) پر نظر رکھتے ہیں تاکہ اس بات کی یقین دہانی ہو کہ آیا وہ اپنے وعدے کے مطابق اینکرپشن کی سہولت پوری طرح فراہم کررہی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو ایسے کوئی خدشات ہیں تو آپ ایسے ٹولز کا استعمال کرسکتے ہیں جو عوامی سطح پر استعمال ہوتے ہوں اور جن کی اینکرپشن تیکنیکوں کا تجزیہ ہو اور جن کو اس طرز پہ ڈیزائن کیا گیا ہو کہ وہ اپنے زیرِ استعمال ٹرانسپورٹ نظام میں بالکل خود مختار ہوں۔ اس کی دو مثالیں OTR اور PGP ہیں۔ یہ نظام صارف کی مہارت پر انحصار کرتے ہیں اور بسا اوقات استعمال کے معاملے میں کم نوعیت کے مہربان ہوتے ہیں اور پرانے پروٹوکولز ان میں موجود ہیں جو جدید طرز کی تمام اینکرپشن تیکنیکوں کا استعمال نہیں کرپاتے۔

Off-the-Record (OTR) رئیل ٹائم ٹیکسٹ گفتگو کیلئے ایک اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن پروٹوکول ہے جسے فوری طور پر مرموز پیغامات کی سروس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ OTR سے جڑے بعض ٹولز ہیں جن شامل ہیں:

PGP (یا Pretty Good Privacy) اینڈ ٹو اینڈ ای میل ترسیل کا ایک معیار ہے۔ یہ ہدایات جاننے کیلئے کہ اپنی ای میل کیلئے PGP اینکرپشن کو کیسے انسٹال اور استعمال کیا جاتا ہے، یہاں دیکھئے:

ای میل کیلئے PGP تیکنیکی طور ماہر صارفین کا بہترین انتخاب ہے جو PGP کی پیچیدگیوں اور اس کی حد بندیوں سے بہتر طور پر واقفیت رکھتے ہیں۔

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کیا نہیں کرتا

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن صرف آپ کے مراسلاتی مواد کا دفاع کرتا ہےلیکن آپ کس سے مخاطب ہیں اس کا دفاع نہیں کرپاتا۔ اس کے علاوہ یہ آپ کے میٹا ڈیٹا کی حفاظت نہیں کرتا جس میں آپ کی ذیلی لائن یعنی subject لائن شامل ہوتی ہے اور اس کے علاوہ یہ کہ آپ کس سے رابطہ کررہے ہیں اور کب کر کرہے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی فون سے کوئی کال کرتے ہیں اور وہ معلومات جو آپ کی لوکیشن یا مقام بتاتی ہے وہ بھی میٹا ڈیٹا میں شامل ہوتی ہے یعنی اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن اس کا تحفظ بھی نہیں کرتا۔

Metadata اس وقت بھی آپ سے متعلق معلومات ظاہر کرسکتا ہے جب آپ کا مراسلاتی مواد خفیہ ہوجاتا ہے۔

Metadata آپ کی فون کالوں سے متعلق بعض بڑی حساس نوعیت کی معلومات ظاہر کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  • وہ جانتے ہیں کہ آپ نے صبح 2:24 پر ایک سیکس سروس پر فون کال کی اور اٹھارہ منٹ تک گفتگو کی لیکن وہ یہ نہیں جان سکتے کہ آپ نے کیا بات کی تھی۔
  • وہ یہ تو جان لیتے ہیں آپ نے گولڈن گیٹ برج سے انسدادِ خودکشی کی ہاٹ لائن پر کال کی تھی لیکن آپ کی گفتگو راز میں ہی رہتی ہے۔
  • انہیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ آپ نے ایڈز یا HIV ٹیسٹ کرنے والی سروس پہ کال کی ، پھر اپنے ڈاکٹر کو کال کی، پھر اسی ایک گھنٹے کے دوران آپ نے اپنی ہیلتھ انشورنس کمپنی کو بھی فون کیا لیکن فون پر کیا بحث ہوئی یہ نہیں پتہ چلا سکتے۔
  • انہیں پتہ ہوتا ہے کہ آپ کو NRA آفس سے کال موصول ہوئی تھی جب کہ اس دوران بندوق سازی کے قوانین کے اطلاق کے خلاف زبردست مہم چل رہی ہے اور یہ کہ آپ نے اس کے فوراً بعد اپنے سینیٹرز اور وفاقی نمائندوں سے بھی بات کی لیکن ان کالز میں موجود بات چیت کی تفصیلات حکومتی مداخلت سے محفوظ رہتی ہیں۔
  • انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ آپ نے ماہر امراضِ نسواں کو کال کی تھی، آدھا گھنٹا بات بھی ہوئی اور پھر اسی دن آپ نے مقامی منصوبہ برائے پرورشِ اطفال پہ بھی کال کی لیکن آپ کی ہونے والی گفتگو سے متعلق کوئی بھی نہیں جان سکتا۔

دیگر اہم فیچرز Anchor link

اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن بہت سے فیچرز میں سے ایک واحد فیچر ہے جو آپ کیلئے بہت اہم ہوسکتا ہے خصوصاًمحفوظ مراسلاتکی مد میں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن آپ کے پیغامات پر دسترس حاصل کرنے کیلئے حکومتوں اور دیگر کمپنیوں سے حفاظتی عمل بروئے کار لاتا ہے۔ لیکن بعض لوگ اور کمپنیاں آپ کیلئے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہوتے لہٰذا وہاں اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کو زیادہ ترجیح نہیں دینی چاہئے

مثال کے طور پر اگر کوئیاپنے والدین، بیوی یا شوہر، یا مالک کی جانب سے اپنی ڈیوائس پر دسترس حاصل کرنے کے بارے میں پریشان ہیں تو چند روز کیلئے پیغامات کو ral, “disappearing” پہ لے جانا ان کیلئے کسی میسنجر کے انتخاب میں ایک فیصلہ کن انتخاب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی اپنے فون نمبر کے کسی پہ ظاہر ہونے کی بابت پریشان ہوسکتا ہے تو اس صورت میں ایک نان فون نمبر "alias" کے استعمال کی صلاحیت کو اہم سمجھا جا سکتا ہے۔

عمومی طور پر صرفسکیورٹی اور پرائیویسی فیچرز ہی ایسے عوامل نہیں ہوتے جو کسی محفوظ مراسلاتی طریقوں کا انتخاب ہوں ۔ کوئی بھی بہترین دفاعی فیچرز والی ایپ اس وقت تک بے کار ہے جب تک آپ کے رابطے اور دوست بھی انہیں استعمال نہیں کر لیتے اور سب مشہور اور بہترین اپپس مختلف ممالک اور برادریوں کے ذریعے استعمال کئے جانے میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ بدترین سروس یا کسی ایپ کیلئے رقم ادا کرنا بھی بعض لوگوں کیلئے کسی میسنجر کو ناقابلِ قبول کر سکتا ہے۔

آپ کسی محفوظ مراسلاتی طریقے کو جتنا بہتر سمجھیں گے کہ آپ اس سے کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کی جتنی ضرورت سے واقف ہوں گے، اتنا ہی مختلف معلومات کی اہمیت اور اس کی شدت اور بعض دفعہ متروک معلومات کی فراہمی کے بارے میں جان سکیں گے۔

JavaScript license information