عوامی کلیدی رمز نگاری اور پی۔جی۔پی کا ایک تعارف

پی۔جی۔پی پریٹی گڈ پرائیویسی کا مخفف ہے۔ یہ در حقیقت بہترین طریقہ خلوت ہے اور اگر اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ آپ کے پیغامات، تحریر اور فائلوں کو بھی زیادہ سمجھے جانے سے یہاں تک کہ حکومت کے مراعاتی کڑی نگرانی کے پروگراموں سے بھی بچا سکتا ہے۔ جب ایڈورڈ سنوڈن یہ کہتا ہے کہ خفیہ کاری کام کرتی ہے تو وہ پی۔جی۔پی اور اس کے متعلقہ سافٹ ویئر کے بارے میں بات کررہا ہوتا ہے۔ یہ ذہن نشین کر لینا چاھئے کہ حکومت کیلئے مخصوص لوگوں کے کمپیوٹروں کی کلیدوں کا چوری ہونا ان سنی بات نہیں ہے (ان کے کمپیوٹروں کو ان کی دسترس سے دور لے جاکر، یا جعلسازی کیساتھ حملوں کے ذریعے یا کمپیوٹروں پر طبعی رسائی حاصل کرکے ان میں مالویئر ڈالنے کے ذریعے) جس سے کہ حفاظتی حصار ٹوٹ جاتا ہے اور یہاں تک کہ پرانے خطوط پڑھنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے۔ یہ کہنا قابلِ موازنہ ہے کہ آپ اپنے دروازے کو نہ توڑے جانے والا تالا تو لگا سکتے ہیں لیکن کوئی آپکی چابی گلی میں سے گزرتے ہوئے آپ کی جیب میں سے نکالنے کے قابل بھی ہو سکتا ہے اور پھر اس کی نقل لیکر اسے واپس آپ کی جیب میں رکھ دے اور اس طرح آپ کے گھر میں تالا توڑے بغیر داخل ہو سکتا ہے۔

بد قسمتی سے پی۔جی۔پی سمجھنے اور استعمال کرنے میں نہایت بری سروس ہے۔ اس کی اسستعمال کردہ عوامی کلیدی رمزنویسی جہاں بہت اختراع پسند ہے وہیں آپ کیلئے اسے دماغ میں رکھنا مشکل بھی ہے۔ یہ سافٹ ویئر ۱۹۹۱ سے چلا آرہا ہے جس کی وجہ سے یہ مائیکرو سافٹ ونڈوز کے ابتدائی ورژن جتنا پرانا ہے، اور تب سے اس کی ظاہری حالت بھی اتنی تبدیل نہیں ہوئی۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اب ایسے بہت سے پروگرام دستیاب ہیں جو پی۔جی۔پی کے قدیم ڈیزائن کو چھپا سکتے ہیں اور خاص طور پر جب اس کا استعمال خفیہ کاری کرنے اور ای۔میل کی تصدیق کرنے کیلئے ہو تو اسے زیادہ آسان بنا سکتے ہیں۔ ہم نے اس سافٹ ویئر کو کسی بھی جگہ پر آپریٹ کرنے اور تنصیب کرنے کی ہدایات شامل کی ہیں۔

اس سے پہلے کہ آپ پی۔جی۔پی یا اس کو استعمال کرنے والے دوسرے پروگراموں کو چلائیں چند لمحات عوامی کلیدی رمز نویسی کی بنیادی باتوں کو سمجھنے کیلئے گزارنا قدروقیمت رکھتے ہیں: کہ یہ آپ کیلئے کیا کر سکتا ہیں، کیا نہیں کرسکتا اور آپ کو اسے کب استعمال کرنا چاہئے۔

دو کلیدوں کی کہانی Anchor link

جب ہم کڑی نگرانی سے مقابلے کیلئے خفیہ کاری کا استعمال کرتے ہیں تو اس زمرے میں ہم جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہاں ہیں:

‘‘ ہیلو ماں’’ جیسے واضح پڑھے جانے والے پیغام کو زیرِغور لاتے ہیں۔ ہم اس پیغام کی ایک کوڈ والے پیغام میں خفیہ کاری کرتے ہیں جو اس پیغام پر نظر رکھنے والے ہر شخص کیلئے نا قابلِ فہم ہو۔ (OhsieW5ge+osh1aehah6, (کہتا ہے ہم اس مرموز پیغام کو انٹرنیٹ سے بھیجتے ہیں جہاں اسے بہت سے لوگوں کی طرف سے پڑھا تو جاتا ہے لیکن پر امید طور پر سمجھا نہیں جاتا۔ پھر جب یہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچتا ہے تو صرف اور صرف ہمارا متعلقہ وصول کنندہ ہی اسے اصل پیغام کی صورت میں غیر مخفی کرنے کا متحمل ہوتا ہے۔

جب کوئی دوسرا شخص اس پیغام کو ڈی کوڈ نہیں کرسکتا تو ہمارا متعلقہ وصول کنندہ کیسے کر سکتا ہے؟ ایسا اس لئے ہونا چاہئے کیونکہ وہ چند اضافی معلومات جانتے ہیں جو دوسرا کوئی نہیں جانتا۔ آیئے اسے ڈی کوڈنگ کلید کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہغیر مقفل کرتی ہےکوڈ میں موجود پیغام کو.

وصول کنندہ اس کلید کو کیسے جان پاتا ہے؟ اکثروبیشتر یوں ہوتا ہے کہ پیغام بھیجنے والا پہلے سے اس کلید کے بارے میں بتا چکا ہوتا ہے، چاہے ‘‘ اس پیغام کو آئینے کے سامنے رکھ کر’’ بتایا جاتا ہو یا پھر ‘‘ ہر لکھے گئے کلیدی حرف کو حروفِ تہجی کے دوسرے حرف کا متبادل’’ دیا جاتا ہو۔ اگرچہ اس حکمتِ عملی کیساتھ ایک مسئلہ ہے۔ اگر آپ اپنے بھیجے گئے کوڈڈ پیغام پر جاسوسی ہوجانے کے بارے میں پریشان ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ آپ اس گفتگو پر بھی جاسوسی ہوئے بغیر اپنے وصول کنندہ کو کلید کیسے بھیجتے ہیں؟ اگر آپ کا حملہ آور پہلے سے ہی کلید کی ڈی کوڈنگ کے بارے میں جانتا ہو تو ایک ہوشمندانہ مرموز پیغام بھیجنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ اور اگر آپ کے پاس ڈی کوڈنگ کلیدوں کو بھیجنے کا کوئی خفیہ طریقہ ہے تو آپ اپنے تمام خفیہ پیغامات بھیجنے کیلئے وہی طریقہ کیوں استعمال نہیں کرتے؟

عوامی کلیدی رمز نگاری اس مسئلہ کا ایک عمدہ حل رکھتی ہے۔ گفتگو کرنے والا ہر شخص دو کلیدوں کی تخلیق کرتا ہے۔ ایک ان کی ذاتی کلید ہوتی ہے جسے وہ کسی دوسرے شخص کے علم میں لائے بغیر اپنے پاس ہی رکھتے ہیں۔ دوسری کلید عوامی ہوتی ہے جسے وہ ہر اس شخص کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں جو ان سے رابطہ کرنا چاہتا ہو۔ اس کلید کے دیکھ لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اس کلید کو آن لائن بھی رکھ سکتے ہیں تاکہ ہر کوئی اسے دیکھ سکے۔

کئی ریاضیاتی خصوصیات کیساتھ کلیدیں بذاتِ خود کافی بڑے ہندسوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ عوامی اور ذاتی کلیدیں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں۔ اگر آپ عوامی کلید کا استعمال کرکے کسی چیز کی خفیہ کاری کرتے ہیں تو کوئی دوسرا شخص اس کی ملتی جلتی ذاتی کلید کیساتھ اسے ڈی کوڈ کر سکتا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرسکتا ہے۔ آپ آروو نامی شخص کو ایک خفیہ پیغام بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس کے پاس ایک ذاتی کلید ہے اور ایک اچھے عوامی خفیہ کلید کار کی طرح وہ اپنی عوامی کلید ویب پیج پر درج کر چکا ہے۔ آپ اس عوامی کلید کو ڈاؤن لوڈ کریں اور پھر اس کے استعمال سے پیغام کو مرموز کریں اور آروو کو بھیج دیں ۔ چونکہ آروو کے علاوہ اور کوئی بھی مشابہت والی ذاتی کلید نہیں رکھتا لہٰذا صرف وہی اس پیغام کو ڈی کوڈ کر سکتا ہے۔

اوقات کا نشان Anchor link

عوامی کلیدی رمز نگاری اس کلیدی خفیہ کشائی کی غیر قانونی آمدورفت کے مسئلے سے نجات حاصل کرتا ہے جو آپ اپنے مطلوبہ شخص کو ایک پیغام بھیجتے وقت لگاتے ہیں کیونکہ وہ شخص پہلے سے کلید رکھتا ہے۔ آپ کو صرف ملتی جلتی عوامی خفیہ کاری کلید کو اپنی حفاظت میں رکھنا پڑتا ہے جو وصول کنندہ بشمول جاسوس کسی کو بھی دے سکتا ہے۔ کیونکہ یہ محض ایک پیغام کی خفیہ کاری کیلئے مفید ہے اور جو بھی اس پیغام کی خفیہ کشائی کی کوشش کرے اس کیلئے یہ بیکار ہے۔

مزید یہ بھی ہے کہ اگر آپ ایک پیغام کی متعدد عوامی کلید کے ساتھ خفیہ کاری کرتے ہیں تو اسکی صرف ملتی جلتی ذاتی کلید سے ہی خفیہ کشائی ہو سکتی ہے۔ جبکہ اس کا متضاد طریقہ بھی ٹھیک ہے کہ اگر آپ ایک پیغام کی کسی ذاتی کلید سے خفیہ کاری کرتے ہیں تو اسکی صرف اسی سے ملتی جلتی کلید سے ہی خفیہ کشائی ہو سکتی ہے۔

یہ کونکر مفید ثابت ہوگا؟ پہلی نظر میں تو آپکی اپنی ذاتی کلید کے ساتھ خفیہ پیغام بنانے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا کیونکہ اس دنیا میں ہر شخص اس کا توڑ کر سکتا ہے ( یا کم از کم ہر وہ شخص جس کے پاس آپکی عوامی کلید موجود ہے) لیکن فرض کریں میں ایک پیغام لکھتا ہوں جس میں کہوں ‘‘ میں آزل کو ۱۰۰ ڈالر دینے کا وعدہ کرتا ہوں’’ اور پھر اپنی ذاتی کلید کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک خفیہ پیغام کی شکل دے دوں۔ کوئی بھی شخص اس پیغام کی خفیہ کشائی تو کر سکتا ہے لیکن اسے تحریر وہی شخص کر سکتا ہے جو میری ذاتی کلید رکھتا ہو۔ اگر میں نے اپنی ذاتی کلید محفوظ رکھ کر ایک اچھا کام سر انجام دیا ہے تو اس کا حاصل صرف اور صرف میں ہوں۔ اس کے زیرِ اثر اس پیغام کو اپنی نجی کلید کیساتھ خفیہ کاری کے ذریعے میں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ صرف میری طرف سے ہی آسکتا ہے۔ با الفاظِ دیگر میں نے اس برقی پیغام کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا ہم حقیقی دنیا میں ایک پیغام کو دستخط کرتے وقت کرتے ہیں۔

دستخط کرنا پیغامات کو کسی اور کے ہاتھ میں جانے سے روکتی ہے۔ اگر کسی نے ‘‘ میں آزل کو ۱۰۰ ڈالر دینے کا وعدہ کرتا ہوں’’کو ‘‘ میں باب کو ۱۰۰ ڈالر دینے کا وعدہ کرتا ہوں’’ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تو وہ میری ذاتی کلید استعمال کرکے اس پیغام کی دوبارہ نشاندہی کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ لہٰذا ایک دستخط کردہ پیغام کی متعدد ذرائع سے قائم کرنے کی ضمانت دی جاتی ہےاور آمدورفت میں اس کے ساتھ گڑ بڑ نہیں کی جاتی۔

اسی لئے عوامی کلیدی رمز نگاری آپ کو ہر اس شخص کو بحفاظت خفیہ کاری اور پیغام بھیجنے دیتی ہے جس کی عوامی کلید کو آپ جانتے ہوں۔ اگر دوسرے لوگ آپ کی عوامی کلید جانتے ہیں تو وہ آپ کو وہ پیغامات بھیج سکتے ہیں جن کی صرف آپ خفیہ کشائی کر سکتے ہیں۔ اور اگر لوگ آپ کی عوامی کلید کو جانتے ہیں تو آپ پیغامات پر نشانی لگا سکتے ہیں تاکہ وہ لوگ آپ کی طرف سے آنے والے پیغامات کو جانیں۔ اور اگر آپ کسی اور کی عوامی کلید کو جانتے ہیں تو آپ ان کی طرف سے دستخط ہوئے ایک پیغام کی خفیہ کشائی کرکے یہ جان سکتے ہیں کہ وہ انہی لوگوں کی طرف سے آئے ہیں۔

یہ بات اب تک واضح ہو جانی چاہئےکہ جتنے زیادہ لوگ آپ کی عوامی کلید کو جانتے ہیں اتنی ہی زیادہ عوامی کلیدی رمز نگاری مفید ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ آپ کو اپنی ذاتی کلید کو بہت زیادہ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی دوسرا آپکی ذاتی کلید کی نقل حاصل کر لیتا ہے تو وہ آپ کا روپ دھار کے پیغامات پہ دستخط کر کے یہ دعوٰی کر سکتے ہیں کہ وہ پیغامات آپکی جانب سے لکھے گئے تھے۔ پی۔جی۔پی ایک ایسا خدوخال رکھتا ہے جو آپکو ایک ذاتی کلید کو ‘‘ فسخ’’ کرنے دیتا ہے اور لوگوں کو اس کے مزید قابلِ اعتماد نہ ہونے کے بارے میں خبردار کرتا ہے لیکن یہ ایک بہترین حل نہیں ہے۔ ایک عوامی کلیدی رمز نگاری نظام استعمال کرنے کا نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ آپ اپنی ذاتی کلید کی بے حد احتیاط سے حفاظت کریں۔

پی۔جی۔پی کیسے کام کرتا ہے Anchor link

پریٹی گڈ پرائیویسی زیادہ تر عوامی اور ذاتی کلیدوں کی تخلیق اور استعمال کی باریکیوں کے ساتھ منسلک ہے۔ آپ اس کے ساتھ ایک عوامی یا ذاتی کلیدی جوڑا تخلیق کرکے ذاتی کلید کی ایک شناختی لفظ کیساتھ حفاظت کرکے اسے استعمال کر سکتے ہیں اور اپنی عوامی کلید سے تحریر پر دستخط اور اسکی خفیہ کاری کرسکتے ہیں۔ یہ آپکو دیگر لوگوں کی عوامی کلیدیں ڈاؤن لوڈ اور آپکی اپنی عوامی کلیدوں کو عوامی کلیدی سرورز سے اپ لوڈ بھی کرنے دے گی، عوامی کلیدی سرورز وہ مخزن ہیں جہاں دیگر لوگ آپ کی کلید تلاش کر سکتے ہیں۔ اپنے ای۔میل سافٹ ویئر میں پی۔جی۔پی سے مطابقت رکھنے والے سافٹ ویئر کی تنصیب کے حوالے سے ہماری ہدایات دیکھیں۔

اگر اس مجموعی جائزے سے کوئی ایک چیز آپ لینا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ آپ کو اپنی ذخیرہ کی ہوئی ذاتی کلید کو کسی محفوظ جگہ پر رکھنی چاہئے اور ایک لمبے شناختی لفظ کیساتھ اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔ جس کسی کے ساتھ آپ رابطہ کرنا چاہتے ہوں یا جو شخص آپ کی طرف سے آنے والے پیغام کی تصدیق کرنا چاہتا ہو کہ وہ خالصتاً آپ کی طرف سے ہی ہے تو اس شخص کو آپ اپنی عوامی کلید دے سکتے ہیں۔

اعلیٰ درجہ پی۔جی۔پی: دی ویب آف ٹرسٹ Anchor link

آپ عوامی کلیدی رمز نگاری کے کام میں ایک ممکنہ عیب کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ فرض کریں کہ میں نے ایک عوامی کلید کو باراک اوبامہ سے منسوب کرکے تقسیم کرنا شروع کیا۔ اگر لوگوں نے مجھ پر اعتبار کیا تو وہ شاید باراک کو خفیہ کاری کی کلید کے استعمال سے خفیہ پیغامات بھیجنا شروع کردیں۔ یا وہ اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ اس کلید کیساتھ نشان لگائی گئی کوئی بھی چیز باراک کا ایک حلفیہ بیان ہے۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے اور درحقیقت ایسے کئی واقعات کچھ لوگوں بشمول اس مسودہ کے بعض مصنفین کی حقیقی زندگی میں پیش آچکے ہیں یعنی چند لوگوں کی جانب سے انہیں بے وقوف بنایا جاچکا ہے ( ہم یقینی طور پر یہ نہیں جانتے کہ آیا جعلی کلیدیں بنانے والے بعض لوگ حقیقت میں پیغامات کی راستے میں مداخلت کرنے اور انہیں پڑھنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ نہیں، یا یہ کہ جو لوگ محفوظ گفتگو کرتے ہیں انکے لئے اسے مزید تکلیف دہ بنانے کیلئے یہ ایک مذاق کے مساوی تھا۔)

حملہ آور کا دو لوگوں کی گفتگو کے دوران براہِ راست بیٹھ کر ان کی پوری گفتگو کو سننا اور کبھی کبھار کفتگو کے دوران حملہ آوروں کے غلط فہمیاں پیدا کرنے والے پیغامات کی ترسیل بھی حملہ آور کا ایک اور سنسنی خیز حملہ ہوتا ہے۔ ایسا حملہ با لکل ممکن ہے لیکن بطور نظام انٹرنیٹ کے ڈیزائن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو پیغامات کو مختلف کمپیوٹروں اور نجی فریقین تک پہنچاتا ہے۔ ان شرائط کے تناظر میں (‘‘ مین آف دی مڈل اٹیک’’ کہلانے والا) کسی مقدم معاہدے کے بغیر کلیدوں کا تبادلہ کرنا بہت جوکھم میں ڈال سکتا ہے۔ باراک اوبامہ کی آواز میں ایک شخص اعلان کرتا ہے ‘‘ یہ میری کلید ہے’’ اور آپ کو ایک عوامی کلیدی فائل بھیجتا ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے جو اس لمحے کا انتظار بھی نہ کرے اور اوبامہ کی کلیدی نشریات روک کر اپنی ذاتی کلید داخل کردے۔

ہم اس بات کو کیسے ثابت کریں کہ ایک خاص کلید مطلوبہ شخص سے واقعی تعلق رکھتی ہے؟ ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ ان سے براہِ راست کلید حاصل کی جائے لیکن یہ ہمارے اس بنیادی اعتراض جتنا بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص ہم پر نظر رکھے بغیر ایک خفیہ کلید حاصل کر لے۔ اب تک لوگ ذاتی اور عوامی خفیہ پارٹیوں میں ملتے ہوئے عوامی کلیدوں کا تبادلہ کر لیتے ہیں۔

پی۔جی۔پی کچھ حد تک بہتر حل رکھتا ہے جسے ’’ ویب آف ٹرسٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کے تحت اگر میں ایک کلید کو ایک مختلف سے تعلق رکھنے پر یقین رکھتا ہوں تو میں اس کلید پر دستخط کر سکتا ہوں اور پھر اسے (اور دستخط کو ) عوامی کلیدی سرور میں منتقل کر سکتا ہوں۔ بعدازاں یہ کلیدی سرورز دستخط شدہ کلیدوں کو ان کے طالب کسی بھی شخص تک پہنچا دیں گے۔

عمومی طور پر میں جتنا زیادہ لوگوں پر اعتماد کروں گا کہ وہ ایک کلید پر دستخط کر چکے ہیں اتنا ہی زیادہ یقین کرونگا کہ کلید واقعی اس کا دعویٰ کرنے والوں سے تعلق رکھتی ہے۔ پی۔جی۔پی آپکو دیگر لوگوں کی کلیدوں پر دستخط کرنے دیتا ہے۔ اور آپ کو دیگر دستخط کنندگان پر بھی اعتماد کرنے دیتا ہے۔ پھر اگر وہ ایک کلید پر دستخط کریں گے تو آپ کا سافٹ ویئر خود کار طریقے سے کلید کے درستگی پر یقین کرلے گا۔

ویب آف ٹرسٹ اپنے اعتراضات اور بہتر تجزیوں کی حالیہ جانچ پڑتال کر رہے ای۔ایف۔ایف جیسے اداروں کے ساتھ چلتا ہے۔ لیکن ابھی کیلئے اگر آپ کلیدوں کو لوگوں کے مابین سپردگی کا متبادل چاہتے ہیں تو ویب آف ٹرسٹ اور عوامی کلیدی سرور نیٹ ورک کا استعمال آپ کے بہترین انتخاب ہیں۔

کوائف کے اعداد و شمار (میٹا ڈیٹا ): پی۔جی۔پی کیا نہیں کر سکتا Anchor link

پی۔جی۔پی ایک پیغام کے مندرجات کے خفیہ ہونے، حقیقی ہونے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہونے کی یقین دہانی سے متعلق ہے۔ لیکن صرف یہی آپ کی خلوت کے خدشات نہیں ہیں۔ جیسا ہم نے دیکھا کہ آپکے پیغامات سے متعلق معلومات کا انکے مندرجات کی طرح انکشاف کیا جا سکتا ہے ( دیکھئے ’’ میٹا ڈیٹا‘‘)۔ اگر آپ پی۔جی۔پی پیغامات کا اپنے ملک کے جانے مانے باغی کے ساتھ تبادلہ کر رہے ہیں تو خفیہ کشائی ہوئے پیغامات کے بغیر بھی ان کے ساتھ رابطہ کرنے میں آپ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ درحقیقت بعض ممالک میں تو آپ کو مرموز پیغامات کی خفیہ کشائی سے انکار پر قید و بند کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پی۔جی۔پی ان باتوں کی تلبیس کرنے کیلئے کچھ نہیں کر پاتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں یا یہ سب کرنے کیلئے آپ پی۔جی۔پی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دراصل اگر آپ کلیدی سرورز پر اپنی عوامی کلید منتقل کرتے ہیں یا دوسرے لوگوں کی کلیدوں پر دستخط کرتے ہیں تو آپ موثر انداز سے دنیا کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی کلید کون سی ہے اور آپ کسے جانتے ہیں۔

آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ خاموشی سے اپنی عوامی کلید کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور صرف ان لوگوں کو دیں جن کے ساتھ آپ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں اور انہیں یہ بھی بتائیں کہ اسے عوامی کلیدی سرورز میں منتقل نہ کریں۔ آپکو ایک کلید سے اپنا نام جوڑنے کی ضرورت نہیں۔

اس بات کو چھپانا کہ آپ ایک خاص شخص سے بات کر رہے ہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایسا کرنے کیلئے ایک راستہ تو یہ ہے کہ آپ دونوں گمنام ای۔میل اکاؤنٹس استعمال کریں اور ان تک رسائی کیلئے Torاستعمال کریں۔ اپنے ای۔میل پیغامات دوسرے لوگوں سے نجی رکھنے اور ایک دوسرے کو یہ ثابت کرنے کیلئے کہ پیغامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی رہی، اگر آپ یہ کریں گے تو پی۔جی۔پی آپ کے لئے مفید ہوگا۔

آخری تازہ کاری: 
2014-11-07
This page was translated from English. The English version may be more up-to-date.
JavaScript license information