مثالی خطرہ کا ایک تعارف

یہاں آپ کو اپنی آن لائن حفاظت کا کوئی واحد حل نہیں ملتا۔ ڈیجیٹل سلامتی اس بارے میں نہیں ہے کہ آپ کون سے آلات استعمال کریں بلکہ یہ آپ کو در پیش خطرات اور ان سے مقابلہ کرنے کی تفہیم کے بارے میں ہے۔ اپنے آپکو محفوظ رکھنے کیلئے یہ تعین کر لینا چاہئے کہ آپ کس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور کس سے آپ اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے معینہ مقام، جو آپ کر رہے ہیں اور جن کیساتھ آپ کام کر رہے ہیں، ان پر انحصار کرتے ہوئے خطرات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اپنے لئے بہترین حل کا احاطہ کرنے کیلئے آپ کو ایک مثالی خطرہ کی تشخیص کا تعین کرنا چاہئے۔.

تشخیص کا تعین کرتے وقت پانچ سوالات جو آپ کو خود سے پوچھنے چاہئیں: Anchor link

  1. کس چیز کی آپ حفاظت کرنا چاہتے ہیں؟
  2. آپ اس کو کس سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟
  3. اس کا کتنا امکان ہے کہ آپ کو اس کی حفاظت کی ضرورت ہو گی؟
  4. اگر آپ ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے کتنے برے اثرات ہو سکتے ہیں؟
  5. اس کو بچانے کیلئے آپ خود کتنی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں؟

جب ہم پہلے سوال کی بات کرتے ہیں تو ہم اکثر اثاثے یا ان چیزوں کا حوالہ دیتے ہیں جن کی آپ حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک اثاثہ وہ ہوتا ہے جس کی آپ کے نزدیک کوئی قدروقیمت ہو اور جس کی آپ حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم ڈیجیٹل حفاظت کی بات کرتے ہیں تو اثاثوں کی معلومات کا اکثر سوال اٹھتا ہے مثال کے طور پر آپ کے برقی خطوط، رابطوں کی فہرست، خاص وقت کے پیغامات اور کاغذات اثاثے ہیں۔ آپ کے آلات بھی آپ کے اثاثے ہیں۔

اپنے پاس رکھے ہوئے کوائف کی فہرست تیار کریں، جہاں یہ رکھا ہوا ہے، کون اس تک رسائی حاصل کر چکا ہے اور کیا چیز دوسروں کو رسائی حاصل کرنے سے روکتی ہے۔

دوسرے سوال کا جواب دینے کیلئے , “ آپ اس کو کس سے محفوظ رکھنا چاھتے ہیں؟,” ’’ تو اس کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کون ہے جو آپ کو یا آپکی معلومات کو حدف بنانا چاہتا ہے یا آپکا مخالف کون ہے۔ مخالف ایسا شخص یا ہستی ہوتی ہے جس سے کہ ایک اثاثہ یا اثاثوں کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔ ممکنہ مخالفین کی مثال آپکا آقا، آپکی حکومت، یا ایک عوامی نیٹ ورک پر ایک ضارب ہے۔

ان لوگوں کی فہرست تیار کریں جو آپکے کوائف یا مواصلات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک شخص، ایک حکومتی ادارہ یا ایک کاروباری ادارہ ہو سکتا ہے۔

خطرا وہ بری چیز ہے جو ایک اثاثے پر واقع ہو سکتا ہے۔ آپکے مخالفین مختلف طریقوں سے آپکے کوائف کو خطرہ پہنچا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مخالف جیسے ہی ایک نیٹ ورک کے ذریعے گزرتا ہے تو وہ آپکے ذاتی مراسلات پڑھ سکتا ہے یا وہ اسے قلم زد کر سکتا ہے یا آپکے کوائف کو بگاڑ سکتا ہے۔ حتٰی کہ ایک مخالف آپکو آپکے کوائف تک رسائی سے محروم کر سکتا ہے۔ .

مخالفین کے حملوں کی طرح ان کے محرکات بھی سویع پیمانے پر مختلف ہوتے ہیں۔ ایک حکومت شاید ایسی ویڈیو جس میں پولیس کا تشدد دکھائے گئے مواد کو آسانی سے مٹانے یا اس کی دستیابی کو کم کرنے کی کوشش کرے جب کہ ایک سیاسی مخالف خفیہ مواد تک رسائی اور اس کو آپکے جانے بغیر شائع کرنے کی خواہش کر سکتا ہے۔

نیچے لکھئے کہ آپکا ممکنہ مخالف آپکے ذاتی کوائف کیساتھ کیا کرنا چاھتا ہے۔

اس چیز کے بارے میں سوچنا بہت ضروری ہےکہ آپ پر حملہ کرنے والے کی صلاحیت کتنی ہے۔ مثال کیطور پرآپکا موبائل فون مہیا کار آپکے فون کی تمام جانکاری تک رسائی رکھتا ہے لہٰذا ان کوائف کو آپکے خلاف استعمال کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

۔ آخر میں خدشے کو زیرِ غور لانا ضروری ہے۔ یہ ایک مخصوص اثاثے کیخلاف حقیقتاً واقع ہونے والے ایک خاص خطرے کے امکان کا نام ہے جو اپنی قبلیت کیساتھ آگے سے آگے بڑھتا ہے۔ آپکے موبائل فون مہیا کار کی پاس آپکے کوائف تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ آپکے آن لائن ذاتی کوائف تک ان کی تعیناتی سے آپکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خدشہ کم ہے۔

خدشات اور خطرات کے مابین فرق کرنا بہت اہم ہے۔ ایک خطرہ وہ بری چیز ہے جو واقع ہو سکتی ہے جبکہ خدشہ ایک غالب امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ خطرہ واقع ہوگا۔ مثال کیطور پر اس کا خطرہ ہے کہ آپکی عمارت گر سکتی ہے لیکن سان فرانسسکو (جہاں زلزلے عام ہیں) میں اس کا خدشہ سٹاک ہوم ( جہاں زلزلے نہیں آتے) سے کہیں زیادہ ہے۔

خدشے کے تجزئے کا تعین کرنا شخصی اور نفسی دونوں عمل ہیں۔ خطرے کے بارے میں ہر شخص کی ترجیحات یا خیال ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کئی لوگ غالب امکان سے ماورا ہو کر خطرات کو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ خطرے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔

عسکری سیاق و سباق میں کسی بھی اثاثہ کو دشمن کے ہاتھوں میں دینے کی بجائے اسے ضائع کرنے پر ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس شہری سیاق و سباق میں ایک اثاثے کیلئے جیسا کہ ای۔ میل خدمت کا مہیا ہونا اس کے خفیہ ہونے سے زیادہ ضروری ہرتا ہے۔

آئیے اب مثالی خطرات کی مشق کرتے ہیں. Anchor link

اگر آپ اپنے گھر اور ملکیت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو کچھ سوالات آپ پوچھ سکتے ہیں:

  • کیا مجھے اپنے گھر کو تالا لگانا چاہئے؟
  • کس قسم کے تالوں پر مجھے سرمایہ کاری کرنی چاہئے؟
  • کیا مجھے مزید جدید حفاظتی نظام کی ضرورت ہے؟
  • اس منظر نامے میں اثاثے کیا ہیں؟
    • میرے گھر کی خلوت
    • میرے گھر کے اندر موجود چیزیں
  • خطرہ کیا ہے؟
    • کوئی اندر داخل ہو سکتا ہے۔
  • کسی کے اندر داخل ہونے سے اصل خدشہ کیا ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے؟

ایک بار اگر آپ یہ سوالات خود سے پوچھ لیں تو آپ اس بات کا جائزہ لینے کے قابل ہو جاتے ہیں کہ کون سی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی املاک قیمتی ہیں لیکن اندر داخل ہونے کا خدشہ کم ہے تو آپ یقینی طور پر ایک تالے پر زیادہ پیسہ نہیں لگانا چاہیں گے۔ دوسری طرف اگر خدشہ زیادہ ہے تو آپ بازار کے بہترین تالے بلکہ شاید ایک حفاظتی نظام بھی لگانا چاہیں گے۔

آخری تازہ کاری: 
2015-01-12
This page was translated from English. The English version may be more up-to-date.
JavaScript license information